مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الحجامة من قال: هي خير ما تداوى به باب: حجامت (پچھنے) کے بارے میں، جو لوگ اس کو بہترین علاج کہتے ہیں
٢٥٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) عن زهير عن عبد الملك بن (عمير) (٢) قال: حدثني حصين (بن) (٣) أبي الحر عن سمرة بن جندب قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ فدعا حجامًا (فأمره أن يحجمه) (٤)، فأخرج (محاجم) (٥) من قرون، (فألزمها) (٦) إياه وشرطه بطرف (شفرة) (٧)، فصب الدم وأنا عنده، فدخل عليه رجل من بني فزارة فقال: ما هذا يا رسول اللَّه؟ علام تمكن هذا من جلدك يقطعه؟ (قال) (٨): فسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "هذا الحجم"، (قال) (٩): وما ⦗٢٠١⦘ الحجم؟ قال: "خير ما (تداوى) (١٠) به الناس" (١١).حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حجام کو بلوایا اور اس کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پچھنے لگائے چناچہ اس نے سینگوں کی سینگیاں نکالیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چپکا دیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بلیڈ کے کنارے سے چیرے لگانے لگا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون بہہ پڑا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ اس دوران بنو فزارہ کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ کیا ہے ؟۔ کس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اپنی کھال پر قدرت دے رکھی ہے کہ یہ اس کو کاٹ رہا ہے۔ حضرت سمرہ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا : ” یہ حجامت (پچھنے لگوانا) ہے۔ ‘ ‘ اس آدمی نے پوچھا، حجامت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ” جن چیزوں سے لوگ علاج کرتے ہیں یہ ان میں سے بہترین چیز ہے۔ “