٢٥٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا فليح بن ⦗١٩٥⦘ سليمان عن أيوب بن عبد الرحمن (بن) (١) عبد اللَّه بن (٢) صعصعة عن يعقوب (بن أبي يعقوب) (٣) عن أم المنذر العدوية، قالت: دخل علي النبي ﷺ ومعه علي وهو ناقه ولنا دوالي معلقة قالت: فقام رسول اللَّه ﷺ فأكل وقام علي (فأكل) (٤) فقال: النبي ﷺ: "مهلًا فإنك ناقه" (قال) (٥): فجلس علي، وأكل منها النبي ﷺ، ثم صنعت لهم سلقًا وشعيرًا، فقال النبي ﷺ (لعلي) (٦): "من هذا (أصب) (٧) " (٨).حضرت ام منذر عدویہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ صحت یابی کے بعد کمزور تھے۔ ہماری نیم پختہ کھجوریں لٹکی ہوئی تھیں۔ حضرت ام منذر کہتی ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں تناول فرمائیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوئے اور کھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم رہنے دو کیونکہ تم کمزور ہو “ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کھجوروں میں سے تناول فرماتے رہے، پھر میں (ام منذر) نے ان کے لئے سبزی اور جو پکائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اس میں سے تناول کرو۔ “