حدیث نمبر: 25174
٢٥١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان (عن) (١) محمد بن عمرو عن أبيه عن جده قال: أخذتني ذات الجنب (٢) في زمن عمر (فدعي رجل) (٣) من العرب أن يكويني فأبى إلا أن (يأذن) (٤) له عمر، فذهب (أبي) (٥) إلى عمر، فأخبره القصة، فقال عمر: لا (تقربن) (٦) النار، فإن له أجلًا لن (يعدوه) (٧) ولن (يقصر) (٨) عنه (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عمرو، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر کے زمانہ میں ذات الجنب ہوگیا۔ تو ایک اعرابی کو مجھے داغنے کے لئے بلایا گیا۔ اس نے حضرت عمر کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر میرے والد حضرت عمر کی خدمت میں گئے اور انہیں یہ واقعہ بتایا تو حضرت عمر نے کہا۔ تم آگ کے قریب نہ جانا کیونکہ اس مریض کا ایک وقت مقرر ہے جس سے یہ مریض نہ تو آگے ہوسکتا ہے اور نہ ہی پھے ت رہ سکتا ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (عمن).
(٢) ذات الجنب: التهاب في الغشاء المحيط بالرئة، أو ورم في الحاجز بين البطن والصدر، انظر: المصباح المنير ١/ ١١٠، والمعجم الوسيط ١/ ٣٠٨.
(٣) في [أ، ح، هـ]: (فدعا رجلًا).
(٤) في [ط]: (يوذن).
(٥) في [هـ]: (لي)، وفي [أ، ح، ط]: (بي).
(٦) في [أ، جـ، ح، ز]: (تقرب).
(٧) في [أ، ح، ط]: (تعدوه).
(٨) في [ط]: (تقصر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25174
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمرو بن علقمة بن وقاص صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25174، ترقيم محمد عوامة 24093)