حدیث نمبر: 25169
٢٥١٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "عرضت عليَّ الأمم، فإذا سواد عظيم، ⦗١٨١⦘ فقلت هذه أمتي، فقيل: هذا موسى وقومه، (قال) (١): ثم قيل لي: انظر إلى الأفق، فنظرت فإذا سواد قد ملأ الأفق، (قال) (٢): (فقيل) (٣): (هذه) (٤) أمتك، ويدخل الجنة (٥) سبعون ألفًا بغير حساب"، ثم دخل رسول اللَّه ﷺ ولم يبين لهم، فأفاض القوم (فقالوا) (٦): نحن (الذين) (٧) آمنا باللَّه واتبعنا (رسوله) (٨)، فنحن (هم) (٩)، أو (أولادنا) (١٠) الذين ولدوا في الإسلام، قال: فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال: "هم الذين لا يسترقون ولا (يتطيرون) (١١) (ولا) (١٢) يكتوون، وعلى ربهم يتوكلون" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھ پر اُمّتوں کو پیش کیا گیا۔ پس ایک بہت بڑی تعداد نظر آئی تو میں نے پوچھا۔ یہ میری امت ہے ؟ کہا گیا۔ یہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پھر مجھے کہا گیا۔ آسمان کی طرف دیکھو۔ چناچہ میں نے دیکھا تو ایک بڑی تعداد تھی جس نے افق کو بھر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ کہا گیا۔ یہ آپ کی امت ہے اور ان میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ “ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں مزید بیان نہیں کیا۔ تو لوگ افاض اور کہنے لگے۔ ہم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس کے رسول کی اتباع کی ہے۔ پس ہم ہی وہ لوگ ہیں۔ یا اس کا مصداق ہمارے وہ بچے ہیں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو تعویذ نہیں کروائیں گے اور فال نہیں نکالیں گے اور نہ داغیں گے بلکہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کریں گے۔ “

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [ط، هـ]: (فقال).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) في [أ، ح]: (فهذا).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (سواها).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [ح]: (الذي).
(٨) في [ط، هـ]: (رسله).
(٩) في [أ، ح]: (نم).
(١٠) في [جـ]: (أولاده).
(١١) في [ط]: (يقطيرون).
(١٢) في [ط]: (فلا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25169
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٤١)، ومسلم (٢٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25169، ترقيم محمد عوامة 24088)