حدیث نمبر: 25164
٢٥١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) عمران ⦗١٧٩⦘ بن (حدير) (٢) عن أبي مجلز (٣) قال: كان عمران بن حصين ينهى (٤) عن الكي، فابتلي فاكتوى، فجعل بعد ذلك يعج، (يقول) (٥): اكتويت كية (نار) (٦) ما أبرأت من ألم، ولا أشفت من سقم (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین داغنے سے روکا کرتے تھے لیکن پھر وہ (مرض میں) مبتلا ہوئے تو انہوں نے خود کو داغ لگایا۔ پھر اس کے بعد وہ اونچی آواز سے کہا کرتے تھے کہ میں نے خود کو آگ کے ذریعہ سے داغا ہے لیکن اس نے نہ تو تکلیف ختم کی اور نہ ہی بیماری میں شفا دی۔
حواشی
(١) في [ز]: (أنبأنا).
(٢) في [أ]: (حذير).
(٣) في حاشية [جـ]: (أبو مجلز) اسمه لاحق بن حميد ثقة كبير.
(٤) في [ح]: (نهى).
(٥) في [ز]: (ويقول).
(٦) في [أ، جـ، ح، ز]: (بنار).