حدیث نمبر: 25160
٢٥١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن عبد الرحمن ابن (سعد) (١) بن (زرارة) (٢) (قال: سمعت عمي يحيى -وما أدركت رجلًا منا به شبيهًا- يحدث) (٣) (أن سعد بن زرارة) (٤) أخذه وجع في حلقه يقال: له (الذبح) (٥) فقال: رسول اللَّه ﷺ: " (الأبلغن) (٦) أو (لأبلين) (٧) في أبي (أمامة) (٨) (عذرا) (٩) "، فكواه (بيده) (١٠) فمات، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "ميتة (سوء) (١١) لليهود يقولون: ⦗١٧٨⦘ (فهلا) (١٢) دفع عن صاحبه؟ وما أملك له ولا (لنفسي) (١٣) شيئًا" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے چچا یحییٰ … اپنے میں سے کسی آدمی کو میں نے ان کے مشابہ نہیں پایا …کو بیان کرتے سُنا کہ حضرت سعد بن زرارہ کو حلق میں ایک بیماری پیدا ہوگئی جس کو ذبح (سوزش) کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ضرور بالضرور ابو امامہ میں عذر کو پہنچاؤں گا یا فرمایا : میں ضرور بالضرور آزماؤں گا، چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا اور وہ انتقال کر گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہود کے لئے یہ (واقعہ) بری موت ہے، وہ کہیں گے، محمد نے اپنے ساتھی سے تکلیف کیوں نہ دور کی، حالانکہ میں تو اپنی جان کا مالک نہیں ہوں۔ “

حواشی
(١) في [هـ]: (أسعد).
(٢) في [أ]: (زرادة).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ح، ز، ط]، وفي [هـ]: (أن أسعد به زرارة).
(٥) في [ط]: (الرمح).
(٦) في [أ، ط]: (لا بلعز).
(٧) في [هـ]: (لأيلين).
(٨) في [ط]: (أسامة).
(٩) في [جـ]: (قدرا).
(١٠) في [أ، ح]: (بيد).
(١١) في [ط]: (بسوء).
(١٢) في [جـ، ز]: (فهلا).
(١٣) في [ط]: (لنفس).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25160
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ والأظهر أن يحيى صحابي، والحديث أخرجه أحمد في العلل ١/ ٢٩٩، وابن ماجه (٣٤٩٢)، والطبراني ٢٢/ (٧٣٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٩٧)، والمزي (٣١/ ٢٠٢)، وابن الأثير في أسد الغابة (٥/ ٤٨٤)، وأخرجه ابن سعد ٣/ ٦١٠ مرسلًا، ومالك ٢/ ٩٤٤ بلاغًا، وورد من طريق آخر عند أحمد (١٦٦١٨ و ١٧٢٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25160، ترقيم محمد عوامة 24079)