٢٥١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: حدثنا مكحول أن رسول اللَّه ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن بالشرر يرمونه، فقال جبريل: "يا محمد، تعوذ بهولاء الكلمات"، (فزجروا) (١) عنه، فقال: "أعوذ ⦗١٧٢⦘ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقًا يطرق بخير يا رحمن] (٢) " (٣).حضرت مکحول روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو جنات آپ کو اس حالت میں ملے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف شعلہ زنی کر رہے تھے۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ ” اے محمد ! آپ ان کلمات کے ذریعہ پناہ حاصل کرلیں۔ ‘ ‘ چناچہ جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ کلمات) کہے تھے۔” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ ، جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، آسمان سے اترنے والی اور آسمان پر چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں اور ہر اس چیز سے پناہ پکڑتا ہوں جو زمین میں پھیلی ہوئی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں سوائے رات کو آنے والی اس چیز کے جو خیر لے کر آئے۔ اے رحمن۔ “