حدیث نمبر: 25146
٢٥١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد (بن الوليد) (١) (يفزع) (٢) من الليل (حتى) (٣) يخرج ومعه سيفه، فخشي عليه أن يصيب أحدًا، فشكا ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "إن جبريل قال لي: (إن) (٤) عفريتًا من الجن يكيدك، (فقل) (٥) أعوذ (بكلمات) (٦) اللَّه التامة التي لا (يجاوزها) (٧) بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن (شر) (٨) ما (ذرأ) (٩) في الأرض وما يخرج (منها) (١٠)، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن (شر) (١١) كل (طارق) (١٢) إلا (طارقًا) (١٣) يطرق بخير يا رحمن"، [فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (١٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ خالد بن ولید رات کے وقت ڈر جاتے تھے اور ان کے پاس تلوار بھی ہوتی تھی اور وہ اس حال میں باہر نکل جاتے تھے، پھر انہوں نے یہ خوف محسوس کیا کہ یہ کسی کو زخمی نہ کردیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” مجھے جبرائیل نے کہا تھا کہ ایک بڑا جن آپ کے لیئے برائی کا ارادہ رکھتا ہے پس آپ (یہ) پڑھیں :” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعے سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترے اور جو آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز سے جو زمین میں داخل ہو اور جو زمین سے خارج ہو اور رات، دن کے فتنوں سے اور ہر رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے مگر وہ رات کو آنے والی چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن “ چناچہ حضرت خالد نے یہ جملے کہے تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔

حواشی
(١) مكرره في: [ز].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ح، ز]: (حين).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) سقط من: [ز].
(٦) في [ز]: (بكلمة).
(٧) في [جـ]: (يجاوزهن).
(٨) سقط في: [ز].
(٩) في [أ، ب، هـ]: (بث).
(١٠) في [أ، ح، ط]: (فيها).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [هـ]: (طارقًا).
(١٣) في [أ، ح، هـ]: (طارق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى بن جعدة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25146، ترقيم محمد عوامة 24065)