حدیث نمبر: 25139
٢٥١٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن ⦗١٦٦⦘ عبد اللَّه بن أبي نجيح عن عبد اللَّه بن (بابيه) (١) مولى جبير بن مطعم قال: قالت أسماء بنت (عميس) (٢): قلت: يا رسول اللَّه إن العين (تسرع) (٣) إلى بني جعفر فأسترقي لهم؟ قال: "نعم فلو قلت لشيء: (يسبق) (٤) القدر (لقلت) (٥): إن العين تسبقه" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم کے آزاد کردہ غلام ، عبد اللہ بن بابیہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس بتاتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروا لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ اور اگر مں کہتا کہ کوئی چیز تقدیر پر بھی سبقت پاسکتی ہے تو میں کہتا کہ نظر ، تقدیر پر سبقت پاسکتی ہے۔ “
حواشی
(١) في [أ، ح]: (ثابتة)، وفي [هـ]: (ثابت).
(٢) في [ز]: (عميش).
(٣) في [ط]: (لتسرع).
(٤) في [جـ]: (ليسبق).
(٥) في [ط، هـ]: (قلت).
(٦) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه الطحاوي ٤/ ٣٢٧، والطبراني ٢٤/ (٣٧٧)، وانظر: مسند أبي حنيفة ص ١٨١، وما تقدم برقم [٢٥١٣٧].