حدیث نمبر: 25138
٢٥١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن نافع عن سليمان بن يسار أن عروة بن الزبير أخبره أن رسول اللَّه ﷺ دخل بيت أم سلمة فإذا صبي في البيت يشتكي، فسألهم (عنه) (١) فقالوا: نظن أن به العين، فزعم أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (ألا) (٢) (تسترقون) (٣) له من العين" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں ایک بچہ کو دیکھا جس کو تکلیف تھی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر والوں سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہمارے خیال میں اس کو نظر لگ گئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس کو نظر کا دم کیوں نہیں کروایا ؟ “۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، ح، ط]: (لا)، وفي [هـ]: (أن).
(٣) في [أ، ح، ز]: (تسترقوا).