حدیث نمبر: 25137
٢٥١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة الزرقي قال: قالت أسماء لرسول اللَّه ﷺ: إن بني جعفر تسرع إليهم العين، فأسترقي لهم من العين؟ قال: "نعم، فلو (كان) (١) شيء سابق القدر لسبقته العين" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن رفاعہ زرقی سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ تو کیا میں ان کو نظر کا دم، تعویذ کر وا لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت پاتی تو نظر ہی تقدپر پر سبقت پاتی۔ “
حواشی
(١) في [ط]: (كانت).