مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الأخذ على الرقية من رخص (فيه) باب: دم پر کچھ (عوض) لینے میں اجازت دینے والوں کا بیان
٢٥١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: أخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة، قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ (في سفر) (١) حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامرأة جالسة، (و) (٢) معها صبي لها، فقالت: يا رسول (اللَّه) (٣) (إن) (٤) ابني هذا به بلاء، وأصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا أدري كم مرة؟ فقال: " (ناولينيه) (٥) "، فرفعته إليه، فجعله بينه وبين ⦗١٦٤⦘ واسطة (الرحْل) (٦)، ثم (فغرفاه) (٧) ثم نفث فيه ثلاثًا: "بسم اللَّه أنا عبد اللَّه (أخسأ) (٨) عدو اللَّه"، ثم ناولها إياه، ثم قال: القينا في الرجعة في هذا المكان فأخبرينا ما فعل؟ قال: فذهبنا ثم رجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه (ثلاث) (٩)، فقال: "ما فعل صبيك؟ " (فقالت) (١٠): والذي بعثك بالحق (١١) (ما أحسسنا) (١٢) منه بشيء حتى (١٣) هذه الساعة، فاجتَرِز هذه الغنم، قال: أنزل فخذ منها واحدة ورد البقية (١٤).حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں گیا یہاں تک کہ جب ہم راستہ کے درمیان ہی میں تھے تو ہمارا گزر ایک ایسی عورت پر ہو اجو بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے ہمراہ اس کا ایک بچہ تھا۔ اس عورت نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا یہ بچہ ہے اور اس کو کوئی بلاء ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی تکلیف ہے۔ نامعلوم دن میں کتنی مرتبہ اس کو وہ بلاء تنگ کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ بچہ مجھے پکڑاؤ۔ “ چناچہ عورت نے وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کو اپنے اور سواری کے کجاوہ کے درمیان بٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ یہ الفاظ کہہ کر پھونکے : ” اللہ کے نام سے، میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا دفع ہوجا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑا دیا اور فرمایا : ” ہمارے اس جگہ واپسی پر تم ہمیں ملو اور بتاؤ کیا ہوا ؟ “ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم وہاں سے چل پڑے پھر ہم جب لوٹے تو ہم نے اس عورت کو اسی جگہ پایا اور اس کے ساتھ تین بکریاں بھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” تیرے بچہ کا کیا بنا ؟ “ اس عورت نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ ہم نے ابھی تک اس بچہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی ہے۔ پس آپ یہ بکریاں لے لیں اور ذبح کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اُترو ! اور ان میں سے ایک بکری لے لو اور باقی بکریاں واپس کردو۔ “