مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الأخذ على الرقية من رخص (فيه) باب: دم پر کچھ (عوض) لینے میں اجازت دینے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 25134
٢٥١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: أتى رسول اللَّه ﷺ (رجل) (١) فقال: إني رقيت فلانا وكان به جنون، فأُعطيت قطيعًا من غنم، وإنما رقيته بالقرآن، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "من أخذ برقية باطل فقد أخذت برقية حق" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے فلاں شخص کو دم کیا تھا اور اس آدمی کو جنون تھا۔ مجھے (عوض میں) بکریوں کا ایک ریوڑد یا گیا ہے۔ جبکہ میں نے صرف قرآن مجید کے ذریعہ سے دم کیا تھا۔ تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ لیا (تو وہ جانے) لیکن یقینا تو نے تو برحق تعویذ دم پر لیا ہے۔ “
حواشی
(١) في [ز]: (رجلًا).