مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الأخذ على الرقية من رخص (فيه) باب: دم پر کچھ (عوض) لینے میں اجازت دینے والوں کا بیان
٢٥١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جعفر بن (١) إياس عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: بعثنا النبي ﷺ (٢) ثلاثين راكبًا في سرية، (قال) (٣): فنزلنا بقوم فسألناهم (القرى) (٤)، فلم يقرونا، (قال) (٥): فلُدغ سيدهم، قال: فأتونا، فقالوا: أفيكم أحد (يرقي) (٦) من العقرب؟ قال: قلت: نعم (أنا) (٧)، ولكن لا أرقيه حتى (تعطونا) (٨) غنما، (قال) (٩): فقالوا: (إنا) (١٠) (نعطيكم) (١١) ثلاثين شاة، قال: فقبلنا، قال: فقرأت (١٢) (فاتحة) (١٣) ⦗١٦٣⦘ (الكتاب) (١٤) سبع مرات، قال: فبرأ (١٥)، فقلنا لا تعجلوا حتى تأتوا رسول اللَّه ﷺ قال: فلما قدمنا عليه، قال: فذكرت له الذي صنعت قال: "أو ما علمت أنها رقية، أقسموا الغنم، وأضربوا لي معكم بسهم" (١٦).حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک سریہ میں بھیجا۔ فرماتے ہیں : پس ہم کچھ لوگوں کے پاس اترے اور ہم نے ان سے مہمان نوازی کا کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ کہتے ہیں (اسی دوران) ن کے سردار کو ڈسا گیا۔ چناچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو بچھو کو دم کرسکتا ہو ؟ ابو سعید کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں۔ لیکن اسکو تب تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں بکریاں نہ دو ۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ ہم آپ لوگوں کو تیس بکریاں دیں گے۔ کہتے ہیں۔ (اس سے) وہ صحت یاب ہوگیا تو ہم نے (آپس میں) کہا۔ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کیا تھا اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو جانتا تھا کہ یہ دم (بھی) ہے ؟ بکریاں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو۔ “