حدیث نمبر: 25121
٢٥١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: حدثنا زكريا قال: حدثني سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرا لنا فاحترقت يدي، فانطلقت بي أمي إلى رجل (١) جالس في الجبانة، فقالت (٢): يا رسول اللَّه، فقال: ⦗١٥٦⦘ "لبيك وسعديك" ثم أدنتني منه فجعل ينفث ويتكلم بكلام لا أدري ما هو، فسألت أمي (بعد ذلك) (٣) ما كان يقول؛ فقالت: كان يقول: "أذهب البأس رب الناس، وأشف أنت الشافي لا (شافي) (٤) إلا أنت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن حاطب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک ہانڈی کو پکڑ لیا تھا اور میرا ہاتھ جل گیا تھا تو میری والدہ مجھے لے کر ایک آدمی کے پاس چلی گئی جو ایک ہموار زمین میں بیٹھا ہوا تھا، اور میری والدہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہوں نے جواب دیا : ” حاضر ہوں “ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کیا، پس انہوں نے کچھ کلمات کہنا شروع کیے، مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کلمات کیا ہیں اور پھونک مارنا شروع کیا، پھر میں نے اس کے بعد اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ تو والدہ نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ رہے تھے۔ : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تکلیف کو دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ “

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (شيخ).
(٢) في [هـ]: زيادة (له).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (شفاء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٥٢)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٦٣)، وابن حبان (٢٩٧٦)، والطيالسي (١١٩٤)، والحاكم ٤/ ٦٢، والطبراني ١٩ (٥٣٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25121، ترقيم محمد عوامة 24041)