مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يتم التكبير ولا ينقصه (في كل رفع وخفض) باب: جو حضرات تمام اعمال میں تکبیر کہا کرتے تھے
حدیث نمبر: 2512
٢٥١٢ - حدثنا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن شهر بن حوشب عن ⦗٣١⦘ عبد الرحمن (بن) (١) (غنم) (٢) عن أبي مالك الأشعري: أنه قال لقومه: قوموا حتى أصلي بكم صلاة النبي ﷺ قال: (فصفنا) (٣) خلفه، (فكبر) (٤)، ثم قرأ، ثم كبر، ثم رفع رأسه فكبر، فصنع ذلك في صلاته كلها (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشعرینے ایک مرتبہ اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا ” اٹھو، میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سکھاتا ہوں “ لوگوں نے ان کے پیچھے صفیں باندھ لیں، پھر آپ نے تکبیر کہی پھر قراءت کی، پھر تکبیر کہی، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پھر تکبیر کہی۔ انہوں نے پوری نماز اسی طرح ادا فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ]: (عن).
(٢) في [ك]: (غنيم).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك]: (فصفنا)، وفي [د، هـ]: (فصففنا).
(٤) سقط من: [أ] وفي [ب، جـ]: (وكبر).
(٥) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه أحمد (٢٢٩١٢)، وعبد الرزاق (٢٤٩٩)، والطبراني (٣٤١٥).