مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟ باب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
٢٥١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي (قال) (١): اشتكيت فدخل علي النبي ﷺ (٢) وأنا أقول: إن كان أجلي قد (حضر) (٣) (فأرحني) (٤)، وإن كان متأخرا فاشفني أو عافني، وإن كان بلاء (فصبرني) (٥) قال: فقال النبي ﷺ (٦): " (كيف قلت؟ " ⦗١٥٤⦘ قال: فقلت) (٧) له، فمسحني بيده ثم قال: "اللهم اشفه أو عافه" (قال) (٨) فما اشتكيت ذلك (الوجع) (٩) بعد (١٠).حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے کچھ شکایت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں (اس وقت) کہہ رہا تھا۔ اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو تُو مجھے راحت دے دے اور اگر میری موت کا وقت ابھی دیر سے ہے تو پھر تو مجھے شفا دے دے یا عافیت بخش دے اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر تو مجھے صبر کی توفیق دے دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا ” تم کیا کہہ رہے ہو ؟ “ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی کہی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ پر پھیرا پھر فرمایا : ’ ’ اے اللہ ! اس کو شفا دے دے۔ “ یا فرمایا، اس کو عافیت دے دے، پس اس کے بعد مجھے یہ تکلیف کبھی نہ ہوئی۔