مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟ باب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
٢٥١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يعوذ بهذه الكلمات: "أذهب ⦗١٥٣⦘ (الباس) (١) رب الناس، واشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك (شفاء) (٢) لا (يغادر) (٣) سقما"، قالت: فلما ثقل رسول اللَّه ﷺ (٤) في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحها وأقولها، قالت: فنزع يده من يدي وقال: "اللهم اغفر لي وألحقني (بالرفيق) (٥) (الأعلى) (٦) " قالت: فكان (هذا) (٧) آخر (ما) (٨) سمعت من كلامه (٩).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ تعویذ (پناہ) دیا کرتے تھے۔ ’ ’ اے لوگوں کے پروردگار ! تکلیف دور کر دے، اور شفاء عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے اور ایسی شفا دے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے مرض الموت میں حالت زیادہ بوجھل ہوگئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اس کو مسح کر کے یہ کلمات کہنے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما اور مجھے توُ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے “ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی تھی۔