مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟ باب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
حدیث نمبر: 25114
٢٥١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن (عبيد اللَّه) (١) عن زياد بن ثويب عن أبي هريرة قال: دخل علي رسول اللَّه ﷺ وأنا اشتكي، فقال: (ألا) (٢) أرقيك برقية علمنيها جبريل "بسم اللَّه أرقيك، (واللَّه) (٣) يشفيك، من كل (أرب) (٤) يوذيك، ومن شر النفاثاث في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ مجھے کوئی تکلیف تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” کیا میں تمہیں اس رقیہ کے ذریعہ دم نہ کروں جو مجھے جبرائیل نے سکھایا تھا، اللہ کے نام سے میں تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہں شفاء دے ہر اس مصیبت سے جو تمہیں اذیت دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ “
حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ط]: (لا).
(٣) في [ز]: (وبسم اللَّه).
(٤) في [ط]: (رب).
(٥) مجهول؛ لجهالة زياد بن ثويب، أخرجه أحمد (٩٧٥٧)، وابن ماجه (٣٥٢٤)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٤١)، والحاكم ٢/ ٥٤١، والمزي ٩/ ٤٣٨، والطبراني في الدعاء (١٠٩٦).