حدیث نمبر: 25099
٢٥٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم (عن) (١) مطرف عن المنهال بن ⦗١٤٧⦘ عمرو عن محمد بن علي (٢) قال: بينا رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب، فتناولها رسول اللَّه ﷺ بنعله فقتلها، فلما انصرف قال: "لعن اللَّه العقرب، لا تدع مصليًا ولا غيره، أو نبيًا ولا غيره (٣) "، ثم دعا بملح وماء (فجعله) (٤) في إناء، ثم جعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک زمین پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بچھو نے ڈس لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچھو کو اپنے جوتے سے قابو کرلیا اور مار ڈالا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : ” اللہ کی لعنت ہو بچھو پر، نہ نمازی کو چھوڑتا ہے اور نہ غیر نمازی کو۔ “ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نبی کو۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا اور اس کو ایک برتن میں رکھ دیا۔ پھر جس جگہ بچھو نے ڈسا تھا اس جگہ یہ پانی ڈالنا شروع کیا اور اس کو ملنے لگے اور اس پر معوذتین پڑھ کر دم فرمایا۔

حواشی
(١) في [ز]: (بن).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن علي).
(٣) زاد في [هـ]: (إلا لدغتهم).
(٤) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، محمد بن علي ليس من الصحابة، وأخرجه متصلًا من حديث علي الطبراني في الأوسط (٥٨٩٠)، والصغير (٨٣٠)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ١٩٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٥٧٥)، وأبو محمد البغدادي الخلال في فضائل سورة الإخلاص (٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25099، ترقيم محمد عوامة 24019)