حدیث نمبر: 25093
٢٥٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (عن) (١) محمد بن إسحاق عن عمرو ابن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا فزع أحدكم (في) (٢) نومه، فليقل (٣): أعوذ بكلمات اللَّه (التامة) (٤) من غضبه وسوء عقابه، و (من) (٥) شر عباده، ومن شر الشياطين و (ما) (٦) يحضرون، فكان عبد اللَّه (يعلمها) (٧) ولده من (أدرك) (٨) منهم، ومن لم يدرك كتبها وعلقها عليه" (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن شعیب ، اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی نیند میں ڈر جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ (یوں) کہے : : : میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ساتھ ، اللہ کے غصہ اور بُری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے شر سے اور جو کچھ حاضر ہیں ان کے شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ “ چناچہ حضرت عبد اللہ، یہ کلمات اپنے سمجھدار بچوں کو سکھا دیتے تھے اور جو بچے ناسمجھ تھے، ان کے لئے یہ کلمات حضرت عبد اللہ لکھ کر ان کے (گلوں میں) لٹا دیتے تھے۔

حواشی
(١) في [ز]: (بن).
(٢) في [جـ]: (من).
(٣) في [هـ]: زيادة (بسم اللَّه).
(٤) في [ط، هـ]: (التامات).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [هـ]: (أن).
(٧) في [ط]: (بعلمها).
(٨) في [ط]: (أدركت).
(٩) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٦٦٩٦)، وأبو داود (٣٨٩٣)، والترمذي (٣٥٢٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٦٦)، وابن السني (٧٥٣)، والبخاري في خلق أفعال العباد ص ٨٩، والطبراني في الدعاء (١٠٨٦)، والبيهقي في الآداب (٩٩٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25093
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25093، ترقيم محمد عوامة 24013)