حدیث نمبر: 25075
٢٥٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الرقى، وكان عند (آل) (١) عمرو بن حزم رقية يرقون بها من العقرب، (قال) (٢): فأتوا النبي ﵇ (٣) فعرضوها عليه، وقالوا: إنك نهيت عن (الرقى) (٤)، فقال: "من استطاع منكم أن ينفع أخاه فليفعل" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعویذات سے منع فرمایا تھا اور عمرو بن حزم کے گھر والوں کے پاس ایک تعویذ تھا جس سے وہ بچھو کا تعویذ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں، پس یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ تعویذ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا، آپ نے تو تعویذات سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکے تو اسے چاہیئے کہ وہ نفع پہنچائے۔ “

حواشی
(١) في [ط]: (ألا).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ]: ﷺ.
(٤) سقط من: [ز]، وفي [أ، جـ، ح، ط]: (الرقا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25075
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢١٩٩)، وأحمد (١٤٣٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25075، ترقيم محمد عوامة 23996)