مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
(في رقية العقرب والحمة) من رخص فيها؟ باب: جن لوگوں نے بچھو اور زہر کے تعویذ میں اجازت دی ہے (ان کے دلائل)
٢٥٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الرقى، وكان عند (آل) (١) عمرو بن حزم رقية يرقون بها من العقرب، (قال) (٢): فأتوا النبي ﵇ (٣) فعرضوها عليه، وقالوا: إنك نهيت عن (الرقى) (٤)، فقال: "من استطاع منكم أن ينفع أخاه فليفعل" (٥).حضرت جابر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعویذات سے منع فرمایا تھا اور عمرو بن حزم کے گھر والوں کے پاس ایک تعویذ تھا جس سے وہ بچھو کا تعویذ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں، پس یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ تعویذ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا، آپ نے تو تعویذات سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکے تو اسے چاہیئے کہ وہ نفع پہنچائے۔ “