مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
من كره إتيان الكاهن والساحر والعراف باب: جو حضرات کاہن، جادوگر اور نجومی کے پاس جانے کو پسند نہیں کرتے (ان کی احادیث)
حدیث نمبر: 25069
٢٥٠٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن حجاج الصواف عن يحيى بن أبي كثيو عن هلال بن أبي ميمون عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم السلمي قال: قلت يا رسول اللَّه إني حديث عهد بجاهلية، وقد جاء اللَّه بالإسلام، وإن منا رجالًا يأتون الكهان، قال: "فلا (تأتهم) (١) " (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن حکم سلمی سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں جاہلیت میں عہد قریب ہی میں (اسلام کی طرف) آیا ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام عطا فرمایا ہے۔ اور ہم میں کچھ لوگ نجومیوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تو نجومیوں کے پاس نہ جانا۔ “
حواشی
(١) في [هـ]: (تأتوهم)، وفي [جـ]: (تأتيهم).