حدیث نمبر: 25064
٢٥٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير (عن هشام) (١) عن أبيه عن عائشة قالت: سحر رسولَ اللَّه ﷺ يهوديٌ من يهود بني زريق يقال له: لبيد بن الأعصم، حتى كان رسول اللَّه ﷺ (يخيل إليه) (٢) أنه يفعل الشيء ولا يفعله، (قال) (٣): حتى إذا كان ذات يوم أو (٤) ذات ليلة دعا رسول اللَّه ﷺ (ثم دعا) (٥) ثم قال: "يا عائشة، أشعرتِ أن اللَّه قد أفتاني فيما (٦) استفتيته فيه، جاءني رجلان فجلس أحدهما عند رأسي، والآخر عند رجلي، فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي أو الذي عند رجلي للذي عند رأسي: ما وجع الرجل؟ (قال) (٧): مطبوب (٨)، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم، قال: في أي شيء؟ قال: في مشط (ومشاطة) (٩) و (جف) (١٠) طلعة ذكر، قال: وأين هو؟ قال: في بئر ذي (أروان) (١١) "، (قال) (١٢): (فأتاها) (١٣) رسول اللَّه ﷺ (١٤) في أناس من أصحابه، ثم ⦗١٣٦⦘ جاء فقال: "يا عائشة (كأنما) (١٥) ماؤها نقاعة (الحناء) (١٦)، ولكأن نخلها رؤوس (الشياطين) (١) " (١٧)، (قالت) (١٨): فقلت: يا رسول اللَّه (أفلا) (١٩) (أحرقته؟) (٢٠) فقال (٢١): " (أما) (٢٢) أنا فقد عافاني اللَّه، وكرهت أن أثير على الناس منه (شرا) (٢٣) "، فأمر بها فدفنت (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا۔ جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ (اس کا اثر) یہاں تک (تھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کرلیا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دن کا وقت تھا یا رات کا وقت تھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ پھر دوبارہ آواز دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کی تھی ؟ میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اس آدمی نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس آدمی سے جو میرے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہا : یا جو آدمی میرے قدموں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا۔ اس آدمی کی تکلیف کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پھر پوچھا۔ اس پر کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی میں اور اس میں آنے والے بالوں میں اور نر کھجور کی جڑ سے بنے ہوئے برتن میں۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے کہا۔ بیئر ذی اروان میں “ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے پاس اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا : ” اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! گویا کہ اس کا پانی مہندی بھگویا ہوا پانی ہے اور اس کے کھجور تو گویا شیطانوں کے سر ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ان چیزوں کو باہر کیوں نہ نکلوایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہ “ کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے صحت بخش دی ہے اور میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ میں اس کے ذریعہ سے لوگوں میں کوئی شر بھڑکاؤں۔ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں دفن کردیا گیا۔

حواشی
(١) في [ط]: سقطت (عن هشام).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) زيادة (قال) في: [أ، ح، ز].
(٤) زاد في [هـ]: (كان).
(٥) تكررت الجملة في: [هـ].
(٦) زيادة (قد) في: [جـ].
(٧) في [أ، ح، ط]: (قالوا).
(٨) أي: مسحور.
(٩) المشاطة: الشعر الذي يسقط عند تسريح الرأس، وفي [أ، ح]: (وماشطة)، وفي [ط]: (وما مشطه).
(١٠) في [ز]: (حب)، وفي [ط]: (حف).
(١١) في [ط]: (ذروان)، وكذلك في: [أ، ح]، وفي [ز]: (أرواق).
(١٢) سقط من: [هـ]، وفي [ط]: (فإن).
(١٣) في [ط]: (فاياها)، وفي [ز]: (فأتاه)، وفي [ح]: (فأتاه).
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [جـ]: (كأن).
(١٦) في [ز]: (الجناء).
(١٧) في [جـ]: (الشيطان).
(١٨) سقط من: [هـ].
(١٩) في [أ، ح، ط، هـ]: (أفهلا).
(٢٠) في [جـ]: (أخرجته).
(٢١) في [جـ، ز]: (قال).
(٢٢) في [ح]: (من).
(٢٣) في [ح، ز]: (شيئًا)، وكذلك في: [أ] وفي [ط]: (شيء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25064
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٦٥)، ومسلم (٢١٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25064، ترقيم محمد عوامة 23985)