مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الرجل يسحر ويسم فيعالج باب: اس آدمی کے بارے میں جس کو سحر یا زہر ہو جائے اور وہ علاج کروائے
٢٥٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عق الأعمش عن يزيد بن (حيان) (١) عن زيد بن أرقم قال: سحر النبي ﷺ رجل من اليهود، فاشتكى النبي ﷺ لذلك أيامًا، (فأتاه جبريل) (٢) فقال: إن (رجلًا) (٣) كذا من اليهود سحرك، عقد لك عقدًا، فأرسل إليها رسول اللَّه ﷺ عليًا، فاستخرجها، فجاء (به) (٤)، فجعل كلما حل عقدة وجد لذلك خفة، (قال) (٥): فقام النبي ﷺ كأنما نشط من عقال، فما ذكر النبي ﷺ (٦) ذلك اليهودي ولا رآه في وجهه قط (٧).حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک یہودی آدمی نے جادو کیا۔ جس کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند دن تک شکایت رہی لیکن پھر حضرت جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ” یہود کے فلاں شخص نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لئے چند گرہیں لگائی ہیں “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گرہوں (والے دھاگہ) کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، اس کو نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان گرہوں میں سے کوئی گرہ کھولتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہلکا پن محسوس کرتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں کھڑے ہوئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بندش سے کھول دیا گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی آدمی سے اس بات کا کبھی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی اس یہودی نے کبھی اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ سے پہچانا۔