حدیث نمبر: 25063
٢٥٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عق الأعمش عن يزيد بن (حيان) (١) عن زيد بن أرقم قال: سحر النبي ﷺ رجل من اليهود، فاشتكى النبي ﷺ لذلك أيامًا، (فأتاه جبريل) (٢) فقال: إن (رجلًا) (٣) كذا من اليهود سحرك، عقد لك عقدًا، فأرسل إليها رسول اللَّه ﷺ عليًا، فاستخرجها، فجاء (به) (٤)، فجعل كلما حل عقدة وجد لذلك خفة، (قال) (٥): فقام النبي ﷺ كأنما نشط من عقال، فما ذكر النبي ﷺ (٦) ذلك اليهودي ولا رآه في وجهه قط (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک یہودی آدمی نے جادو کیا۔ جس کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند دن تک شکایت رہی لیکن پھر حضرت جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ” یہود کے فلاں شخص نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لئے چند گرہیں لگائی ہیں “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گرہوں (والے دھاگہ) کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، اس کو نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان گرہوں میں سے کوئی گرہ کھولتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہلکا پن محسوس کرتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں کھڑے ہوئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بندش سے کھول دیا گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی آدمی سے اس بات کا کبھی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی اس یہودی نے کبھی اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ سے پہچانا۔

حواشی
(١) في [ح]: (حباب)، وفي [هـ]: (حبان).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ]: (رجل).
(٤) في [هـ]: (بها).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (قال).
(٦) في [ز]: ﵇.
(٧) منقطع حكمًا؛ الأعمش مدلس، أخرجه أحمد (١٩٢٦٧)، والنسائي ٧/ ١١٢، والحاكم ٤/ ٣٦٠، وعبد بن حميد (٢٧١)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٩٣٥)، والطبراني (٥٠١٦)، وابن سعد ٢/ ١٩٩، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٨٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25063
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25063، ترقيم محمد عوامة 23984)