حدیث نمبر: 24981
٢٤٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: دخل رسول اللَّه ﷺ على أم سلمة وعندها صبي (يبتدر) (١) (منخراه) (٢) دما، فقال النبي ﷺ: "ما (لهذا) (٣)؟ " قالوا: به العذرة، فقال: النبي ﷺ (٤): "علام (تعذبن) (٥) أولادكن؟ إنما يكفي إحداكن أن تأخذ قسطًا هنديًا فتحكه بماء سبع مرات، ثم توجره إياه"، قال: ففعلوه فبرأ (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے نتھنون سے خون جاری تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے بتایا۔ اس کو حلق کی بیماری ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم عورتیں کس بات پر اپنی اولادوں کو عذاب دیتی ہو ؟ تم میں سے کسی ایک کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ وہ ہندی لکڑی لے لے اور اس کو سات مرتبہ پانی میں رگڑ لے پھر اس کو بچے کے حلق میں ٹپکا دے “ راوی کہتے ہیں ۔ لوگوں نے اس بچہ کے ساتھ ایسا ہی کیا اور وہ بچہ صحت یاب ہوگیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (يندر).
(٢) في [أ، ح، ط]: (سحراه).
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (هذا).
(٤) في [ز]: ﵇.
(٥) في [ط]: (ــعرين)، وفي [ح]: (تغرين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 24981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٤٣٨٥)، والحاكم ٤/ ٢٠٥، وأبو يعلى (١٩١٢)، والبزار (٣٠٢٤/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24981، ترقيم محمد عوامة 23903)