حدیث نمبر: 24980
٢٤٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن أم قيس ابنة محصن قالت: دخلت بابن لي على رسول اللَّه ﷺ وقد أعلقت (عليه) (١) ⦗١١١⦘ من العذرة فقال: " (علام) (٢) (تدغرن) (٣) أولادكن (عليكن) (٤) بهذا العلاق؟ عليكن بهذا العود الهندي فإن فيه سبعة أشفية، (يستعط) (٥) به من العذرة، (ويلد) (٦) به من (ذات) (٧) (الجنب) (٨) " (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام قیس بنت محصن سے روایت ہے ۔ کہتی ہیں : کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے حلق کے درد کی وجہ سے اس کو جونک لگا رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی کا گلا کیوں گھونٹ رہی ہو ؟ تم یہ علاج کرو۔ تم یہ عود ہندی کو استعمال کرو۔ کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے۔ حلق کا درد ہو تو اس کو بذریعہ ناک کھینچا جائے اور ذات الجنب ہو تو اس کو منہ کے گوشہ سے استعمال کیا جائے۔
حواشی
(١) زائدة من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (على ما).
(٣) في [ز]: (تدعون).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [ح]: (يسقط)، وفي [هـ]: (يسعط).
(٦) في [ح، ط]: (ويلا).
(٧) في [أ، ح، ز، ط]: (ذوات).
(٨) في [ح]: (خبب).