مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
من رخص في الدواء والطب باب: جن لوگوں نے دوائی اور طب میں رخصت کا کہا ہے ( ان کے دلائل )
حدیث نمبر: 24964
٢٤٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن زيد بن أسلم أن رجلًا أصابه جرح، فاحتقن الدم، وأن رسول اللَّه ﷺ دعا له رجلين من بني أنمار فقال: "أيكما (أطب) (١)؟ "، فقال: رجل يا رسول اللَّه أو في الطب خير؟ فقال (٢): "إن الذي أنزل الداء (٣) أنزل الدواء" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو زخم لگ گیا پس خون منجمد ہوگیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے بنو انمار کے دو آدمیوں کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم میں سے کون بڑا طبیب ہے ؟ “ ایک آدمی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا طب میں بھی کوئی خیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا جس ذات نے بیماری اتاری ہے اس نے دوائی بھی اتاری ہے۔ “
حواشی
(١) في [جـ، ح]: (أصيب).
(٢) في [ز]: زيادة (له).
(٣) في [جـ]: زيادة (الذي).