حدیث نمبر: 24949
٢٤٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (بن سعد) (١) قال: سألت أبا جعفر عن رجل أشتري منه طعاما فيعطيني بعضه ثم يقطع به فلا (٢) يعطيني، فيقول: (بعني) (٣) (٤) طعامك حتى (أقضيك) (٥)، قال: لا تقربن هذا، (هذا) (٦) الربا الصراحية.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے دریافت کیا کہ ایک شخص سے میں نے گندم خریدی اس نے کچھ مجھے دے دیا اور پھر وہ کہیں چلا گیا اور باقی مجھے نہیں دیا اور کہتا ہے کہ : اپنی گندم مجھے فروخت کر دے یہاں تک کہ میں آپ کو ادا کر دوں ؟ فرمایا اس بیع کے قریب مت جانا یہ صراحۃً سود ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [هـ]: زيادة (يجدما) وتقدم الأثر برقم [٢٤٨٢١].
(٣) في [ط، ز]: (يعني).
(٤) في [هـ]: زيادة (من).
(٥) في [هـ، ط]: (أقضيه).
(٦) سقط من: [هـ].