حدیث نمبر: 24945
٢٤٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: لو أن رجلا جاء إلى صيرفي بدينار فصرفه عنده بعشرة دراهم (فقبض) (١) الدينار، وليس عند الصيرفي (درهم) (٢)، قال: إن احتالها له قبل أن (يفترقا) (٣) فإن البيع جائز، لأن كل واحد منهما (ضمن) (٤) لصاحبه، ولو كان عرضا فسد البيع.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زرگر کے پاس دینار لے کر آئے اور اس کے پاس درہم کے ساتھ تبدیل کرے، اور وہ دینار پر قبضہ کرلے اور زرگر کے پاس دراہم نہ ہوں ؟ فرمایا : اگر انہوں نے جدا ہونے سے پہلے اس کے لئے تبدیل کرلیا ہے تو بیع جائز ہے، اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک کا ثمن دوسرے پر ہے، اور اگر وہ سامان تھا تو بیع فاسد ہوجائے گی۔

حواشی
(١) في [ز]: (وقبض).
(٢) في [ز]: (دراهم).
(٣) في [ط]: (يفترقان)، وفي [ز]: (يتفرقا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (ثمن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24945
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24945، ترقيم محمد عوامة 23867)