حدیث نمبر: 24937
٢٤٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر السمان عن ابن عون قال: بلغ محمد ابن سيرين أن عمر بن عبد العزيز أقرع فقال: (ما أرى) (١) هذا (إلا من) (٢) (الإستسقام) (٣) بالأزلام.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے قرعہ ڈالا پھر فرمایا : میرے نزدیک تو یہ استسقام بالازلام ہی ہے۔ (زمانہ جاہلیت میں تیروں کے ذریعہ قرعہ اندازی کی جاتی تھی اس کی طرف اشارہ ہے) ۔

حواشی
(١) سقط من [أ، ح، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (الأمر).
(٣) في [أ، ح، هـ]: (للاستسقام).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24937
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24937، ترقيم محمد عوامة 23859)