حدیث نمبر: 24927
٢٤٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن صالح بن أبي (الأخضر) (١) عن الوليد بن (٢) هشام عن مالك بن عبد اللَّه الخثعمي قال: كنا جلوسًا عند عثمان فقال: من ها هنا من أهل الشام؟ فقمت فقال: أبلغ معاوية إذا غنم غنيمة أن يأخذ خمسة أسهم، فليكتب على كل سهم منها للَّه ثم ليقرع، فحيث ما خرج منها فليأخذه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کی خدمت میں تھے، آپ نے فرمایا کہ یہاں شام والوں میں سے کوئی ہے ؟ میں کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا حضرت معاویہ کو یہ پیغام پہنچا دو کہ : جب مال غنیمت آئے تو اس میں پانچ حصے الگ کردو، پھر اس میں سے ایک حصہ پر لکھ لو کہ یہ اللہ کے لئے ہے، پھر قرعہ ڈالو، پھر جو اس میں نکلے اس کو لے لو۔

حواشی
(١) في [ط، ح]: (احضر)، وفي [ز]: (احص).
(٢) في [أ، جـ، ز، هـ]: زيادة (أبي)؛ وسيأتي الخبر في كتاب البر، باب رقم (١٢٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24927
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف صالح بن أبي الأخضر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24927، ترقيم محمد عوامة 23849)