مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يرهن الرهن، على من نفقته؟ باب: کوئی شخص رہن رکھوائے تو رہن کا نفقہ (خرچہ) کس پر ہے؟
حدیث نمبر: 24821
٢٤٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (١) بن (سعد) (٢) ⦗٦٣⦘ قال: سألت أبا جعفر عن رجل أشتري منه طعاما (فيعطيني) (٣) بعضه ثم يقطع به (فلا) (٤) يجد ما يعطيني فيقول: بعني (من) (٥) طعامك حتى أعطيك، قال: لا تقربن هذا، هذا الربا (الصراحية) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میں نے ایک شخص سے گندم خریدی، پھر اس نے مجھے کچھ دیا، پھر اس کے پاس طعام ختم ہوگیا۔ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا جو مجھے دے سکتا۔ اس نے کہا اپنی گندم میں سے مجھے فروخت کر دے تاکہ میں تجھے (تیرا باقی حصہ) دے دوں ؟ حضرت ابو جعفر نے فرمایا : اس کے قریب بھی مت جانا یہ کھم کھلا سود ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: زيادة (عن).
(٢) في [ز]: (أسعد).
(٣) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (فيعطى).
(٤) في [ط]: (ولا).
(٥) في [ط]: (عن).
(٦) في [ط]: (السراجيه).