مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الضالة ينتفع منها بشيء باب: کیا گمشدہ (ضالّہ) چیز سے کچھ نفع لینا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 24776
٢٤٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم [قال: (لا) (١) ربح لمال مضمون، قال: (تفسيره) (٢): الرجل يأخذ من الرجل مالا مضاربة ويقول: أضمن لك ولك نصف الربح] (٣) أو ثلثه.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں، مال مضمون کا نفع کا مطلب یہ ہے کہ : ایک شخص دوسرے سے مال مضاربت یہ کہہ کرلے کہ میں تیرا ضامن ہوں اور نصف یا ثلث نفع تیرا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: ساقطة.
(٢) في [ز، جـ]: (فسرها)، وفي [أ، ح]: (فيسره).
(٣) سقط من: [ط].