مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الضالة ينتفع منها بشيء باب: کیا گمشدہ (ضالّہ) چیز سے کچھ نفع لینا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 24774
٢٤٧٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن زيد بن (جبير) (١) قال: كنت قاعدًا عند ابن عمر فأتاه رجل فقال: ضالة وجدتها، فقال: أصلح إليها وأنشد، (فقال) (٢): (هل) (٣) علي إن شربت من لبنها؟ قال ابن عمر: ما أرى عليك في ذلك شيئًا (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے ایک گمشدہ اونٹنی ملی ہے، اس کا خیال رکھ اور اس کے بارے میں پوچھ داچھ کرتا رہ، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کا دودھ استعمال کرلوں تو کیا مجھ پر ضمان ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشادفرمایا : میرا نہیں خیال کہ اس کے بارے میں تجھ پر کوئی تاوان ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [جـ، ز]: (فهل).