حدیث نمبر: 24773
٢٤٧٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (١) العالية (قالت) (٢): كنت (جالسة) (٣) عند عائشة، فأتتها امرأة فقالت: يا أم المؤمنين! إني وجدت شاة ضالة فكيف تأمريني [أن أصنع بها؟ قالت: عرفي واعلفي و (احلبي) (٤)، ثم عادت فسألتها (فقالت) (٥): تأمريني أن] (٦) آمرك أن تبيعيها أو ⦗٤٩⦘ تذبحيها، فليس ذلك لك (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کیا اُمّ المؤمنین ! میں نے ایک گمشدہ بکری پائی ہے، آپ مجھے اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنے کا حکم فرماتی ہیں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اس کا اعلان کرواؤ اور اس کو چارہ ڈالو اور دودھ استعمال کرو، پھر خاتون کچھ عرصہ بعد دوبارہ آئی اور دریافت کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تو مجھے حکم دیتی ہے کہ میں تجھے اس کو فروخت کرنے یا ذبح کرنے کی اجازت دے دوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ بات (کام) تیرے لئے درست نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: زيادة (أبي).
(٢) في [هـ، أ]: (قال).
(٣) في [ط]: (خالسه)، وفي [جـ]: (جالسًا).
(٤) في [ز]: (واحتلبي).
(٥) في [ز]: (فقال).
(٦) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24773
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المالية صدوقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24773، ترقيم محمد عوامة 23700)