مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
المتاع يلقى في البحر فيخرجه الرجل باب: سامان سمندر میں گر جائے، پھر اس میں سے ایک شخص وہ نکال لے
حدیث نمبر: 24739
٢٤٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث قال: سئل (الحسن) (١) عن السفينة (تغرق) (٢) في البحر، [فيها متاع (لقوم) (٣) شتى، (فقال) (٤): ما ألقى البحر] (٥) على ساحله فهو لصاحبه، ومن غاص على شيء فاستخرجه فهو له.مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ کشتی اگر سمندر میں ڈوب جائے اور اس میں قیدیوں کا سامان ہو ؟ فرمایا : جو سمندر خود ساحل پر ڈال دے وہ تو مالک کا ہوگا، اور جو غوطہ لگا کر نکالا جائے تو وہ نکالنے والے کا ہوگا۔
حواشی
(١) سقط من [أ، جـ، ز، ط]، وانظر: المحلى (٨/ ٢٤٠).
(٢) في [جـ]: (يغرق).
(٣) في [أ، هـ]: (القوم).
(٤) في [جـ]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].