مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري الدابة فيجد بها عيبا باب: کوئی شخص جانور خریدے پھر اُس میں عیب پائے
حدیث نمبر: 24644
٢٤٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (حنش) (١) بن الحارث عن علي ابن مدرك النخعي أن رجلا اشترى من رجل جارية فلم يجد لها أضراسا، فخاصمه إلى شريح، فقال شريح: بينتك أنه (باعكها) (٢) وليس لها أضراس، وإلا فيمينه (باللَّه) (٣) أنه (باعكها) (٤) ولها أضراس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن مدرک النخعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے باندی خریدی اس کی داڑھ نہ تھی، وہ جھگڑا حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس لے گیا، حضرت شریح نے فرمایا : تو اس بات پر گواہ پیش کر کہ اس نے تجھے بلا داڑھ کے باندی فروخت کی ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھائے گا کہ اس نے تجھے فروخت کیا ہے اور اس کی داڑھ تھی۔
حواشی
(١) في [أ، ح]: (حسن)، وفي [هـ]: (حسين).
(٢) في [هـ]: (باعها).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ز]: (باعها).