مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في ثواب إنظار المعسر والرفق به باب: تنگ دست کو مہلت دینے اور اُس کے ساتھ نرمی کرنے کا ثواب
٢٤٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة (عن) (١) (عبد الملك) (٢) بن عمير عن ربعي قال: قال عقبة بن عمرو (لحذيفة) (٣): حدثني ⦗٥٢٩⦘ (بشيء) (٤) سمعته من رسول اللَّه ﷺ (فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ) (٥) يقول: "كان فيمن كان قبلكم رجل أتاه الملَك ليقبض روحه فقال: هل (عملت) (٦) خيرًا؟ قال: ما أعلمه، قال: انظر، قال: ما أعلمه (٧) إلا أني كنت رجلًا (أحارف) (٨) الناس في (الدنيا) (٩) وأخالطهم، فكنت أنظر المعسر، وأتجاوز عن الموسر، (١٠) فأدخله اللَّه الجنة"، قال عقبة: وأنا أسمعه يقول ذلك (١١).حضرت عقبہ بن عامر نے حضرت خذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان فرما دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں م یں فرشتہ ایک شخص کی روح قبض کرنے آیا تو اس نے آدمی سے سوال کیا کہ تیرا کوئی نیک عمل ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا، اس سے کہا، غور کر، اس نے کہا کہ مجھے سوائے اس عمل کے اور کچھ نہیں معلوم کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ معاملات کرتا تھا، میں غریب کو مہلت اور امیر سے نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔