حدیث نمبر: 24510
٢٤٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي الفيض قال: سمعت عبد اللَّه بن يسار قال: (سمعت) (١) أبا الدرداء ساوم رجلًا، فحلف أن لا يبيعه، ثم أعطاه بعد ذلك (بذلك) (٢) الثمن، فقال أبو الدرداء: إني أخشى - (أو) (٣) أكره- أن (أحملك) (٤) على إثم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو درداء کو دوسرے شخص سے بھاؤ اگاتے ہوئے سنا۔ لیکن اس شخص نے قسم اٹھائی کے میں اس شے کو بیچنا ہی نہیں چاہتا۔ بعد میں وہی شے اس نے ابودرداء کو اتنی قیمت پر ہی دے دے۔ ابو درداء نے فرمایا کہ میں ناپسند سمجھتا ہوں کہ تجھ گناہ پر برانگیختہ کروں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (رأيت).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط، هـ]: (و).
(٤) في [ط]: (أجملك).