مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في القاضي ما ينبغي أن يبدأ به في قضائه باب: قاضی کے لئے فیصلہ میں کس چیز سے آغاز اور ابتداء کرنا بہتر ہے
٢٤٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) قال: أكثروا على (٢) عبد اللَّه ذات يوم فقال: يا أيها الناس! قد أتى علينا زمان لسنا نقضي، ولسنا هناك، ثم إن اللَّه (قدّر أن بلّغنا) (٣) من الأمر ما ترون، فمن عرض له منكم (قضاء) (٤) بعد اليوم فليقض بما في كتاب اللَّه، فإن جاءه أمر ليس في كتاب اللَّه فليقض بما قضى (به) (٥) نبيه ﷺ، [فإن جاءه أمر ليس في كتاب اللَّه ولم يقض به نبيه (فليقض بما قضى به الصالحون، فإن أتاه أمر ليس في كتاب اللَّه ولم يقض به رسول اللَّه ﷺ) (٦)] (٧) ولم يقض به الصالحون فليجتهد (رأيه) (٨) ولا (يقول) (٩): ⦗٥١٩⦘ إني أرى وإني أخاف، فإن الحلال بين والحرام بين، وبين ذلك أمور (مشتبهات) (١٠) فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك (١١).حضرت عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ ایک دن لوگ حضرت عبد اللہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : اے لوگو ! تحقیق ہم پر ہم پر ایسا وقت گزرا ہے کہ نہ ہم فیصلہ کر یا اور نہ ہی فیصلہ کی جگہ موجود ہوئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے امارت کا کام ہمارے مقدر میں کردیا۔ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ پس آج کے بعد تم میں سے جس کو عہد ہ قضاء پیش کیا جائے، تو اس کو چاہیئے قرآن کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن و حدیث میں نہ ہو تو جو صالحین نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن و سنت میں نہ ہو اور صالحین نے بھی اس کے متعلق فیصلہ نہ فرمایا ہو تو پھر اپنی رائے کے مطابق اجتہاد کرو، اور وہ یوں نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں ، میں ڈرتا ہوں، بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، پس شک میں ڈالی والی شے کو چھوڑ دو اور یقینی شے کو اختیار کرو۔