مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في القاضي ما ينبغي أن يبدأ به في قضائه باب: قاضی کے لئے فیصلہ میں کس چیز سے آغاز اور ابتداء کرنا بہتر ہے
٢٤٤٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أن عمر بن الخطاب ﵁ كتب (إليه) (١): إذا جاءك شيء في كتاب اللَّه فاقض به، ولا يلفتنك عنه الرجال، (فإن) (٢) (جاءك) (٣) أمر ليس في كتاب اللَّه فانظر سنة رسول اللَّه ﷺ فاقض بها، فإن جاءك (ما) (٤) ليس في كتاب اللَّه وليس فيه (سنة) (٥) من رسول اللَّه ﷺ (٦) فانظر ما اجتمع (عليه الناس) (٧) فخذ ⦗٥١٨⦘ (به، فإن جاءك ما ليس في كتاب اللَّه ولم يكن فيه سنة من رسول اللَّه ﷺ ولم يتكلم فيه أحد قبلك فاختر) (٨) أي الأمرين شئت: إن شئت أن تجتهد (برأيك) (٩) وتقدم فتقدم، وإن شئت أن (تتأخر) (١٠) فتأخر، ولا أرى التأخر إلا خيرًا لك (١١).حضرت شریح فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا، اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن میں ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور آپ کو لوگ اس سے آزمائش میں مبتلا نہ کردیں، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو نہ قرآن میں ہو اور نہ ہی رسول اکرم ﷺ کی سنت میں ہو تو پھر دیکھو جس چیز پر لوگوں کا اجماع ہوا ہے اس فیصلہ کو لے لو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو نہ قرآن میں ہو، نہ ہی سنت رسول اللہ میں ہو اور نہ ہی آپ سے پہلے کسی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو تو پھر دو میں سے ایک معاملہ کو اختیار کرنا، اگر اپنی رائے سے اجتہاد کر کے لوگوں سے آگے نکلتا چاہتے ہو تو تم آگے نکل سکتے ہو اور اگر خود کو موخر رکھنا چاہو تو موخر بھی رہ سکتے ہو۔ میں موخر رہے میں ہی تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔