مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في القاضي ما ينبغي أن يبدأ به في قضائه باب: قاضی کے لئے فیصلہ میں کس چیز سے آغاز اور ابتداء کرنا بہتر ہے
٢٤٤٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: لما بعث رسول اللَّه ﷺ معاذًا إلى اليمن قال: "يا معاذ! ⦗٥١٧⦘ بم تقضي؟ " قال: أقضي بكتاب اللَّه، قال: "فإن جاءك أمر ليس في كتاب اللَّه"، (قال: أقضي بما قضى (به) (٢) نبيه ﷺ، قال: "فإن جاءك أمر ليس في كتاب اللَّه) (٣) ولم يقض فيه نبيه (ولم) (٤) يقض فيه الصالحون؟ " قال: أؤم الحق جهدي، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "الحمد للَّه الذي جعل (رسول) (٥) رسول اللَّه ﷺ (٦) يقضي بما يرضى به رسول اللَّه ﷺ (٧) " (٨).حضرت محمد بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو فرمایا اے معاذ ! کیسے فیصلہ کرو گے ؟ حضرت معاذ نے فرمایا : کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، حضور ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو ؟ حضرت معاذ نے فرمایا : میں رسول ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں بھی نہ ہو، اور اس کے متعلق نبی ﷺ نے بھی فیصلہ نہ کیا ہو اور اس کے متعلق متقدمین نیک لوگوں کا فیصلہ بھی موجود نہ ہو ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی کوشش اور رائے سے درست فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ کے قاصد کو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق دی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہیں۔