حدیث نمبر: 24477
٢٤٤٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عوف عن محمد قال: كان شريح مما يقول للخصم: يا عبد اللَّه! واللَّه إني لأقضي لك وإني لأظنك ظالمًا، و (لكن) (١) لست أقضي بالظن، ولكن أقضي بما أحضرني (من بينتك) (٢) وإن قضائي لا يحل لك ما حرم (عليك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح خصم سے فرماتے ، اے عبد اللہ ! خدا کی قسم میں نے تیرے حق میں فیصلہ کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ تو ظالم ہے لیکن میں اپنے ظن اور خیال پر فیصلہ نہیں کرتا، میں تو ان گواہوں پر فیصلہ کرتا ہوں جو تو نے پیش کئے، بیشک میرے فیصلہ کرنے سے جو چیز تیرے لئے حرام ہے وہ حلال نہ ہوگی۔

حواشی
(١) في [هـ، س]: (لكني).
(٢) سقط من [أ، هـ، ح، ط].
(٣) نقص في [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24477
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24477، ترقيم محمد عوامة 23431)