مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
ما لا يحله (قضاء) القاضي باب: قاضی کے فیصلہ سے کیا چیز حلال نہیں ہوتی
٢٤٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أسامة بن زيد الليثي عن عبد اللَّه بن رافع مولى (أم) (١) سلمة (عن أم سلمة) (٢) قالت: جاء رجلان من الأنصار إلى النبي ﷺ يختصمان في مواريث بينهما قد درست، ليس (بينهما) (٣) بينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون إلي، وإنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو مما أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه بشيء فلا يأخذه، فإنما أقطع له (به) (٤) قطعة من النار، يأتي بها [(إسطاما) (٥) في عنقه، (٦) يوم القيامة"، (قالت) (٧): فبكى الرجلان وقال كل ⦗٥١١⦘ (واحد) (٨) (منهما) (٩): حقي لأخي، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أما إذا فعلتما فاذهبا واقتسما (وتوخيا) (١٠) الحق ثم (استهما ثم) (١١) (ليحلل) (١٢) كل واحد منكما صاحبه" (١٣).حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص میراث کے متعلق جھگڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے پاس گواہ نہ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے ، میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس جس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ وصول نہ کرے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے ، جو قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کا کڑا ہوگا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے ، اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم یہ کرچکے تو اب تم دونوں جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور حق کا ارادہ کرو اور پھر آپس میں قرعہ ڈال لو، پھر چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے بھائی کے لئے حلال کر دے۔