مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكون له على الرجل الدين فيجحده باب: کسی شخص کا دوسرے پر قرضہ ہو لیکن وہ اس کا انکار کر دے
حدیث نمبر: 24438
٢٤٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن عطاء قال: كان لرجل من أصحابنا على رجل (مال) (١) فجحده، ثم وقع له عندي شيء، فجاءني وسألني وسأل أصحابنا فقالوا: يأخذه، (وسألت) (٢) ابن (معقل) (٣) فقال: يؤدي أمانته، ويطلب حقه، فإن (كان) (٤) له بينة (أخذ بحقه) (٥) وإلا استحلفه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں سے ایک کا دوسرے شخص پر مال تھا، اس نے اس کا انکار کیا، پھر اُ س کی کوئی چیز میرے پاس آئی، وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے سوال کیا، اور ہمارے اصحاب سے بھی دریافت کیا ؟ انہوں نے کہا : وہ اس سے وصول کرے گا، پھر میں نے حضرت ابن معقل سے دریافت کیا ؟ انہوں نے فرمایا : وہ اس کو امانت دے اور اس سے اپنا حق طلب کرے، اگر اس کے پاس گواہ ہیں تو اپنا حق وصول کرلے وگرنہ اُ س سے قسم اٹھوائے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (مالا).
(٢) في [جـ، ز]: (فسألت).
(٣) في [أ، ح، هـ]: (مغفل).
(٤) في [جـ، ز]: (كانت).
(٥) سقط من: [أ، هـ].