٢٤٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر (عن عمر) (٢) بن (عبد الرحمن) (٣) بن (دلاف) (٤) عن أبيه عن (عم) (٥) أبيه بلال بن الحارث قال: كان رجل (يغالي) (٦) بالرواحل، ويسبق الحاج، حتى أفلس، قال: فخطب عمر بن الخطاب فقال: أما بعد! فإن (الأسيفع أسيفع) (٧) جهينة رضي من أمانته ودينه أن يقال: سبق الحاج، فادّان معرضا، فأصبح (٨) قد دِين به، فمن كان له (عليه) (٩) شيء فليأتنا حتى نقسم ماله بينهم (١٠).حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ ایک شخص مہنگی سواریاں استعمال کرتا تھا اور حاجیوں سے آگے نکل کر چلا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ غریب ہوگیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا کہ اما بعد بیشک قبیلہ جہینہ کا اسیفع نامی شخص اپنے دیندار اور امانت دار ہونے کے لیے صرف اسی پر خوش تھا کہ اس کو سابق الحاج (یعنی حاجیوں میں سبقت کرنے والا کہا جاتا ہے) کہا جاتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مقروض بن کر لوٹا ہے اور اب وہ اس وجہ سے غلام بن چکا ہے۔ جس کسی نے بھی اس سے اپنا ادھار لینا ہو وہ ہمارے پاس آئے ہم اس کا مال ان قرض خواہوں میں تقسیم کردیں گے۔