مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في القوم يكونون شركاء في الدار باب: کچھ لوگ اگر کسی ایک مکان میں شریک ہوں
حدیث نمبر: 24264
٢٤٢٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك (بن) (١) مخلد عن ابن (جريج) (٢) قال: قلت لعطاء: ابتعت أنا ورجل دارا، ولرجل سدس وللآخر نصف فباع -يعني صاحبي-، آخذه أنا وهم (جميعًا) (٣) (أو) (٤) آخذه دونهم، قال: (لا) (٥)! (بل) (٦) تأخذه دونهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میں نے اور ایک دوسرے شخص نے مل کر ایک مکان خریدا، میرے ساتھی کا اس میں چھٹا حصہ ہے۔ آدھا مکان دوسرے شخص کا ہے۔ میرے ساتھی نے اپنا حصہ بیچ دیا ہے۔ کیا ہم سب اس رقم میں سے حصہ لیں گے یا صرف میں لوں گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ صرف تم اس رقم میں سے حصہ لو گے۔
حواشی
(١) في [ز، ح]: (عن).
(٢) في [أ، ط]: (جريح).
(٣) في [أ، ح، ط]: (جمعًا).
(٤) في [ط]: (لو).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [م]: (لم).