حدیث نمبر: 24112
٢٤١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن حسان قال: سمعت مجاهدًا يقول: (من أُعمر) (١) عمرى فهي له ولورثته من بعده، لا ترجع إلى الذي أعمرها، والرقبى مثلها، قلت لمجاهد: ما الرقبى؟ قال: قول الرجل: هي (للآخر) (٢) مني ومنك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں جس شخص کو عمری کے طور پر مکان مل جائے تو وہ زندگی میں اس کا ہوگا اور مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گا۔ ایسا مکان واپس عمری میں دینے والے کو نہیں ملے گا اور رقبی بھی اس کی مثل ہے۔ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رقبی کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رقبی کہتے ہیں کہ کوئی آدمی یوں کہے کہ یہ مکان ہم دونوں میں جو زیادہ دیر زندہ رہا اسی کا ہوگا۔
حواشی
(١) في [ط]: (ابن عمر).
(٢) في سنن البيهقي (٦/ ١٧٦): (لآخر من بقي).