حدیث نمبر: 24097
٢٤٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (حبيب) (١) ابن أبي ثابت عن ابن عمر قال: أتاه أعرابي (فقال) (٢): [أعطيت ابن (أخي) (٣) ناقة حياته، فنمت حتى صارت إبلًا، فما ترى فيها، قال] (٤): هي له حياته وموته، فقال الأعرابي: إنما جعلتها صدقة، قال: ذلك أبعد لك منها (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک اعرابی آیا اور عرض کیا : میں نے اپنے بھتیجے کو ایک اونٹنی کا بچہ دیا تھا اس کی زندگی بھر کے لئے، اس نے اس کو پالا یہاں تک کہ اب وہ بڑا اونٹ بن گیا ہے، آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ فرمایا وہ زندگی اور مرنے کے بعد بھی اسی کے لئے ہے۔ اعرابی نے کہا پھر میں نے اس کو صدقہ کردیا۔ فرمایا : پھر تو یہ پہلے سے بھی زیادہ تجھ سے دور ہوگی۔ (یعنی واپسی کی کوئی راہ نہیں ہے)
حواشی
(١) في [ح]: (ابى).
(٢) في [ز]: (قال).
(٣) سقطت من [ز]، وفي [س]: (أختى).
(٤) سقط من: [أ، ح، ط]، وفي [هـ]: (رجل أعطى ابنًا له ناقة ما عاش فنتجت ذودًا، فقال ابن عمر).